اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے عقیدے

Image
  قانون شریعت سے                        بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرّحیم                                            عقائد کا بیان   اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے عقیدے عقیده ا ۔ خدا تعالیٰ کی توحید و کمالات اللّٰہ( عَزَّ وَجَلَّ) ایک ہے، پاک، بے کل، بے عیب ہے۔ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے کوئی کسی بات میں نہ اُس کا شریک نہ برابر ، نہ اس سے بڑھ کر، وہ مع اپنی صفات کمالیہ کے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ، ہمیشگی صرف اُس کی ذات وصفات کے لیے ہے ، اس کے سو جو کچھ ہے پہلے نہ تھا جب اُس نے پیدا کیا تو ہوا۔ وہ اپنے آپ ہے اُس کو کسی نے پیا نہیں کیا، نہ وہ کس کا باپ، نہ سی کا بیٹا، نہ اس کے کوئی بی بی ، نہ رشتہ دار سب سے بے نیاز وہ کسی بات میں کسی کا محتاج نہیں اور سب اُس کے محتاج ، روزی دینا، مارنا ، جلا نا اُس کے اختیار میں ہے، وہ سب کا مالک، جو چاہے کرے۔ اُس کے حکم میں کوئی دم نہیں مارسکتا، بغیر اُس کے چاہے...

رات کا سونا کتنا ضروری ہے اور کیوں

 رات کا سونا کتنا ضروری ہے اور کیوں 



نیند انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ جیسے کھانا، پانی اور سانس لینا ضروری ہے، ویسے ہی رات

  کو سونا بھی جسم اور دماغ کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ نیند صرف آرام کا نام نہیں بلکہ یہ ایک 

قدرتی عمل ہے جو جسم کو دوبارہ تازہ، تندرست اور طاقتور بناتا ہے۔ آج کے مصروف دور میں بہت سے لوگ 

دیر رات تک جاگتے رہتے ہیں، موبائل استعمال کرتے ہیں یا کام میں مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان 

کی نیند پوری نہیں ہو پاتی۔ لیکن یہ عادت آہستہ آہستہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ رات کا سونا کتنا ضروری ہے اور کیوں۔

قدرتی نظامِ وقت (سرکیڈین ردھم)

اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں ایک قدرتی گھڑی رکھی ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ یہ نظام دن اور رات کے مطابق جسم کے کاموں کو کنٹرول کرتا ہے۔ دن کے وقت روشنی دماغ کو جاگنے کا اشارہ دیتی ہے، اور رات کے اندھیرے میں دماغ ایک ہارمون پیدا کرتا ہے جسے میلاٹونن (Melatonin) کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون نیند لانے میں مدد دیتا ہے۔
اگر ہم رات کو سوتے ہیں تو جسم قدرت کے اس نظام کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔ لیکن اگر ہم رات جاگ کر دن میں سوتے ہیں تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے جسم اور دماغ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند

رات کی نیند جسم کی مرمت (repair) اور طاقت بحال کرنے کا بہترین وقت ہے۔ نیند کے دوران جسم کے خلیے نئے بنتے ہیں، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، اور قوتِ مدافعت (immune system) بہتر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے اور نوجوان جب اچھی نیند لیتے ہیں تو ان کی جسمانی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔
اگر نیند پوری نہ ہو تو جسم کمزور ہونے لگتا ہے، بیماریاں جلد لگتی ہیں اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔ نیند کی کمی سے دل کی بیماری، شوگر، بلڈ پریشر اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جو لوگ رات کو 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں ان بیماریوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

دماغ اور ذہنی سکون کے لیے ضروری

رات کا سونا دماغ کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لیے۔ جب ہم سوتے ہیں تو دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، یادیں محفوظ کرتا ہے اور غیر ضروری باتوں کو صاف کرتا ہے۔ اس لیے اچھی نیند لینے والے لوگوں کی یادداشت، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، نیند کی کمی سے چڑچڑاپن، غصہ، افسردگی اور ذہنی دباؤ (stress) پیدا ہوتا ہے۔ ایک رات کی نیند نہ پوری ہو تو انسان اگلے دن تھکا ہوا اور الجھا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ عادت لمبے عرصے تک جاری رہے تو ذہنی بیماریوں جیسے ڈپریشن یا اینزائٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

خوبصورتی اور جلد کی صحت

نیند کو عموماً “بیوٹی سلیپ” کہا جاتا ہے، اور یہ بات بالکل درست ہے۔ رات کے دوران جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جلد کے خلیے نئے بنتے ہیں اور کولیجن (Collagen) بنتا ہے جو جلد کو نرم و ملائم رکھتا ہے۔
اگر آپ رات کو ٹھیک سے نہیں سوتے تو آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑ جاتے ہیں، جلد پھیکی اور بے جان لگتی ہے، اور بڑھاپا جلد آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے خوبصورت جلد کے لیے مہنگی کریموں سے زیادہ ضروری ہے کہ آپ رات کو وقت پر سوئیں۔

کارکردگی اور پیداواریت (Productivity)

رات کی اچھی نیند آپ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ جب آپ پورا آرام کرتے ہیں تو دن بھر چاق و چوبند، توجہ دینے والے اور تخلیقی (creative) رہتے ہیں۔ اسکول کے طلبہ کے لیے نیند بہت اہم ہے کیونکہ نیند یادداشت مضبوط کرتی ہے اور امتحان کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔
اسی طرح، جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے لیے بھی اچھی نیند ضروری ہے کیونکہ نیند کی کمی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، غلطیاں بڑھ جاتی ہیں اور تھکن کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

ہارمونز کا توازن

رات کی نیند ہمارے جسم میں ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو گروتھ ہارمون خارج ہوتا ہے جو جسم کو بڑھنے اور مرمت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ نیند سے بھوک کے ہارمونز بھی متوازن رہتے ہیں۔
اگر نیند پوری نہ ہو تو ایک ہارمون غرلین (Ghrelin) بڑھ جاتا ہے جو زیادہ بھوک لگاتا ہے، اور دوسرا ہارمون لیپٹن (Leptin) کم ہوجاتا ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس دیتا ہے۔ اس عدم توازن سے انسان ضرورت سے زیادہ کھانے لگتا ہے اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔

کتنی نیند ضروری ہے؟

نیند کی ضرورت عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

  • بچے: 9 سے 12 گھنٹے

  • نوجوان: 8 سے 10 گھنٹے

  • بالغ افراد: 7 سے 8 گھنٹے
    یاد رکھیں، صرف نیند کا وقت نہیں بلکہ نیند کا معیار (quality) بھی اہم ہے۔ اگر آپ رات کو پرسکون ماحول، ہلکی روشنی اور بغیر شور کے سوتے ہیں تو آپ کی نیند زیادہ گہری اور فائدہ مند ہوگی۔

نتیجہ

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رات کا سونا کوئی عیش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ یہ جسم کو صحت مند، دماغ کو تیز، اور دل کو مضبوط رکھتا ہے۔ جو لوگ رات کو وقت پر سوتے ہیں، وہ صبح تازہ دم، خوش مزاج اور زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔
اگر ہم قدرت کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق رات کو سونے اور دن میں کام کرنے کی عادت اپنائیں تو ہم جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر زیادہ تندرست رہ سکتے ہیں۔
یاد رکھیں — رات کی اچھی نیند اچھی صحت کی بنیاد ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Sciatica کے علاج کے لیے بہترین جڑی بوٹیاں: کیا Sciatica کا علاج بغیر دوا کے کیا جا سکتا ہے؟

مکاشفۃ القلوب دارالندوہ میں شیطان کا قریش کو مشورہ: